الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ:«فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ»
سورۂ یوسف کی تفسیر {فَاسْاَلْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللّٰاتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَہُنَّ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8639
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ لِرَسُولِهِ {فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ} [يوسف: 50] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: { فَاسْأَ لْہُ مَا بَالُ النِّسْوَۃِ اللّٰاتِی قَطَّعْنَ أَ یْدِیَہُنَّ} کے بارے میں فرمایا: اگر یوسف علیہ السلام کی جگہ میں ہوتا تو میں پیغام دینے والے کی بات کو بہت جلدی قبول کر لیتا اور میں نے کوئی عذر تلاش نہ کرنا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأنفال إلى سورة الرعد/حدیث: 8639]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه ومختصرا البخاري: 3375، ومسلم: ص 1840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9060 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9048»
وضاحت: فوائد: … یوسف علیہ السلام جیل میں تھے اور بادشاہ کی اجازت کے باوجود وہاں سے نکلنے میں جلدی نہیں کی، تاکہ کوئییہ نہ سمجھے کہ یہ واقعی گنہگار تھے اور اب ان کو معاف کر کے رہا کر دیا گیا اور یوسف علیہ السلام کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اُن پر یہ حجت قائم کر دیں کہ انھوں نے اِن پر ظلم کر کے اِن کو قید کیا تھا، یہیوسف علیہ السلام کا حسنِ صبر اور قوت ِ عزم تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عاجزی و انکساری کا اظہار کر رہے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه ومختصرا البخاري: 3375
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8639 in Urdu