🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ:« إِنَّ الله وَمَلائِكَةَ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ .....»
{یَاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ …}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8720
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَبِيحَةَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَشْبَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا وَلَحْمًا قَالَ ثُمَّ رَجَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ فَأَتَى حُجَرَ نِسَائِهِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ فَدَعَوْنَ لَهُ قَالَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ وَأَنَا مَعَهُ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْبَيْتِ فَإِذَا رَجُلَانِ قَدْ جَرَى بَيْنَهُمَا الْحَدِيثُ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا بَصَرَ بِهِمَا وَلَّى رَاجِعًا فَلَمَّا رَأَى الرَّجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَلَّى عَنْ بَيْتِهِ قَامَا مُسْرِعَيْنِ فَلَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ بِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ رخصتی کے بعد ولیمہ کیا تھا، میں نے لوگوں کواس میں شمولیت کی دعوت دی تھی، آپ نے لوگوں کو روٹی اور گوشت سے سیر کیا، پھر آپ لوٹے جس طرح اپنی بیویوں کے حجروں میں لوٹتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر سلام کیا اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے دعا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف لوٹے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تک پہنچے تو ابھی تک ایک کونے میں دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے، جب ان دو آدمیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے بہت تیزی کے ساتھ باہر نکل گئے، اب میں نہیں جانتا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے چلے جانے کی خبر دی یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی گئی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر کی طرف لوٹے اور میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا اور پردہ والی آیت نازل ہوئی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة القصص إلى سورة الأحقاف/حدیث: 8720]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5154، ومسلم: 1428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12046»
وضاحت: فوائد: … پردہ والی آیت سے مراد درج ذیل آیت ہے: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰیہُ وَلٰکِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْـتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْکُمْ ْ وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ وَاِذَا سَاَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِہِنَّ وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہ مِنْ بَعْدِہٖٓاَبَدًااِنَّذٰلِکُمْکَانَعِنْدَاللّٰہِعَظِیْمًا۔}
(سورۂ احزاب: ۵۳)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو،نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ،مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو، تمہارییہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔ اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا۔ نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو کرو، یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے، تمہارے لیےیہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دو، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔
پردے کا یہ حکم عمر رضی اللہ عنہ کی خواہش پر نازل ہوا،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا،یا رسول اللہ! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، کاش آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دے دیں تو کیا اچھا ہو، جس پر اللہ تعالی نے یہ حکم نازل کیا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5154


Al-Fath al-Rabbani Hadith 8720 in Urdu