الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابٌ فِي صِفَةِ الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ قَبْلَهُ
غسلِ جنابت اور اس سے پہلے والے وضو کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 878
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ قَالَ: سَأَلَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: تُبَلُّ الشَّعْرَ وَتَغْتَسِلُ الْبَشَرَةَ، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ؟ قَالَ: كَانَ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى جِلْدِهِ) قَالَ: إِنَّ رَأْسِي كَثِيرُ الشَّعْرِ، قَالَ: كَانَ رَأْسُ رَسُولِ اللَّهِ أَكْثَرَ مِنْ رَأْسِكَ وَأَطْيَبَ
عبید اللہ بن مقسم کہتے ہیں: حسن بن محمد نے سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے غسلِ جنابت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تم اپنے بالوں کو تر کرو اور چمڑے کو دھوؤ، اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے غسل کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے تھے اور پھر اپنے چمڑے پر پانی بہاتے تھے۔ اس نے کہا: میرے سر کے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بال تیرے سر کے بالوں کی بہ نسبت زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 878]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 252، 255، 256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14159»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 252
Al-Fath al-Rabbani Hadith 878 in Urdu