🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَابُ:«وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا»
سورۃ القیامہ {لَا تُحَرِّکْ بِہٖلِسَانَکَلِتَعْجَلَبِہٖ} کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8816
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ} [القيامة: 16] قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً فَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ قَالَ فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا أُحَرِّكُ شَفَتَيَّ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُ وَقَالَ لِي سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّكُ كَمَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ} قَالَ جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ نَقْرَؤُهُ {فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ {ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ} [القيامة: 16-19] فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ كَمَا أَقْرَأَهُ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ارشادِ باری تعالی ہے: { لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ} … (اے نبی) آپ قرآن کو جلدییاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ قرآن اترتے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت محنت اٹھاتے تھے، منجملہ ان کے ایکیہ تھا کہ آپ اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں ہونٹوں کو اس طرح ہلاتا ہوں، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلاتے تھے، سعید نے کہا: میں بھی اپنے ہونٹوں کو ایسے ہلاتا ہوں، جس طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہلاتے تھے، پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کر دی: {لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ إِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ} … (اے نبی) آپ قرآن کو جلدییاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، اس کا جمع کرنا اور آپ کی زبان سے پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔ یعنی قرآن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینۂ مبارک میں جمع کرنا اور آپ کا اس کو پڑھنا، {فَإِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ} … ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں۔ پس تو سنا کر اور خاموش رہا کر، { ثُمَّ إِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہُ} … پھر اس کا واضح کردینا ہمارے ذمہ ہے۔ پھر جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وحی کو اسی طرح پڑھ لیتے، جیسے جبرائیل نے پڑھی ہوتی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8816]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5، 4927، 5724، ومسلم: 448، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3191»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5


اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8816M
وَعَنْهُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُرْآنٌ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ} [القيامة: 16-18]
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہوتاآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو یاد کرتے (اور اس نیت سے (اپنی زبان کو جلدی جلدی ساتھ حرکت دیتے)، پس اللہ تعالی نے فرمایا: {لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ إِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ۔ فَإِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ۔} … (اے نبی) آپ قرآن کو جلدییاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، اس کا جمع کرنا اور آپ کی زبان سے پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔ ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8816M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19910»
وضاحت: فوائد: … جبریل علیہ السلام جب وحی لے کر آتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ساتھ عجلت سے پڑھتے جاتے کہ کہیں کوئی لفظ بھول نہ جائے، جس پر اللہ تعالی نے یہ حکم نازل کیا: {لَا تُحَرِّکْ بِہِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہِ إِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہُ وَقُرْآنَہُ۔ فَإِذَا قَرَأْنَاہُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَہُ۔ ثُمَّ إِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہُ} … (اے نبی) آپ قرآن کو جلدییاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں، اس کا جمع کرنا اور آپ کی زبان سے پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔ ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں۔ پھر اس کا واضح کردینا ہمارے ذمہ ہے۔
درج ذیل آیت میںبھییہی مضمون بیان کیا گیا ہے:
{فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہ ْ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۔} … پس بہت بلند ہے اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے، اور قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر، اس سے پہلے کہ تیری طرف اس کی وحی پوری کی جائے اور کہہ اے میرے رب! مجھے علم میں زیادہ کر۔ (سورۂ طہ: ۱۱۴)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19910


Al-Fath al-Rabbani Hadith 8816 in Urdu