الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: «وَشَاهِدٍ وَمَشْهُود»
سورۃ الانشقاق {فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8822
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حُوسِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ قَالَتْ فَقُلْتُ أَلَيْسَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا [سورة الإنشقاق: ٨] قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ بِالْحِسَابِ وَلَكِنَّ ذَلِكَ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت جس کا بھی حساب لیا گیا، اس کو عذاب دیا جائے گا۔ میں (عائشہ) نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ {فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَسِیرًا} … عنقریب اس کا حساب آسان لیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد حساب نہیں ہے، یہ تو صرف اعمال کی پیشی ہے، روزقیامت جس کا حساب لیا گیا، اس کو عذاب ہو کر رہے گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الملك إلى سورة البروج/حدیث: 8822]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4939، ومسلم: 2876، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24200 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24704»
وضاحت: فوائد: … پیشی سے مراد یہ ہے کہ مومن کے اعمال پیش حوض پر پیش کیے جائیں گے، اس کی غلطیاں بھی اس کے سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالی اپنی رحمت اور فضل و کرم سے ان کو معاف کر دے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4939
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8822 in Urdu