الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابٌ فِي صِفَةِ غَسْلِ الرَّأْسِ وَنَقْضِ الشَّعْرِ عِنْدَ الْغُسْلِ
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
حدیث نمبر: 884
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ (بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ) قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ مِنَ الرَّضَاعِ فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ فَاغْتَسَلَتْ وَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا الْحِجَابُ
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور سیدہ عائشہؓ کا رضاعی بھائی، سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئے، رضاعی بھائی نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے صاع کے بقدر برتن منگوا کر غسل کیا اور اپنے سر پر تین چلو ڈالے، جبکہ ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 884]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 251، ومسلم: 320، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24934»
وضاحت: فوائد: … منکرین احادیث نے انکارِ حدیث کے لیے اس روایت کے ان الفاظ کا سہارا لیا ہے، جن میں پردے کا ذکر نہیں ہے اور انھوں نے طعن کرتے ہوئے کہا کہ یہ احادیث ہیں کہ جن میں ان دو مردوں کے سامنے سیدہ عائشہ ؓغسل کر رہی ہیں۔ جبکہ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سیدنا ابو سلمہ، سیدہ عائشہ ؓکے رضاعی بھانجے تھے، سیدہ ام کلثوم بنت ابو بکر ؓنے ابو سلمہ کو دودھ پلایا تھا اور دوسرا شخص سیدہ کا رضاعی بھائی تھا، اس کا نام عبد اللہ بن یزید تھا۔ یہ دو محرم رشتہ دار تھے اور اِن کے اور سیدہ کے وجود کے درمیان پردہ بھی حائل تھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 251
Al-Fath al-Rabbani Hadith 884 in Urdu