الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابٌ فِي صِفَةِ غَسْلِ الرَّأْسِ وَنَقْضِ الشَّعْرِ عِنْدَ الْغُسْلِ
غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
حدیث نمبر: 886
عَنْ جَمِيعِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَتْهَا إِحْدَاهُمَا: كَيْفَ كُنْتُنَّ تَصْنَعْنَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُؤُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ان سے یہ سوال کیا: تم غسل کے وقت کیا کرتی تھیں؟ سیدہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نماز والا وضو کر کے اپنے سر پر تین چلّو ڈالتے تھے، لیکن ہم مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ چلّو ڈالتی تھیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 886]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جُمَيع بن عمير۔ أخرجه ابوداود: 241، والنسائي: 11/ 389، وابن ماجه: 574، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26068»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جُمَيع بن عمير۔ أخرجه ابوداود: 241
Al-Fath al-Rabbani Hadith 886 in Urdu