الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب ما جاء فى فضل قل هو الله أحد والـمـعوذتين
سورۂ اخلاص کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8868
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] حَتَّى خَتَمَهَا فَقَالَ وَجَبَتْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَبَتْ قَالَ الْجَنَّةُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ فَأُبَشِّرَهُ فَآثَرْتُ الْغَدَاءَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفَرِقْتُ أَنْ يَفُوتَنِي الْغَدَاءُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الرَّجُلِ فَوَجَدْتُهُ قَدْ ذَهَبَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا وہ {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ} پڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے اس سورت کو مکمل کر لیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاـ جنت واجب ہوگئی۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ میں اس قاری کو خوشخبری دوں، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کو ترجیح دی، کیونکہ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھانے سے محروم نہ ہو جاؤں، لیکن کھانا کھانے کے بعد جب میں اس آدمی کی طرف آیا تو وہ وہاں سے جا چکا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8868]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2897، والنسائي: 2/ 171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10919 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10932»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه الترمذي: 2897
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8868 in Urdu