الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب ما جاء فى فضلها وتفسيرها
سورۃ الفلق سورۃ الفلق کی فضیلت اور تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 8883
عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَبِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ وَسُورَةَ يُوسُفَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ إِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ سُورَةً أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أَبْلَغَ عِنْدَهُ مِنْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [سورة الفلق] قَالَ يَزِيدُ لَمْ يَكُنْ أَبُو عِمْرَانَ يَدَعُهَا وَكَانَ لَا يَزَالُ يَقْرَؤُهَا فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک کے ساتھ چمٹ گیا اور کہا:اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہوداور سورۂ یوسف پڑھائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عقبہ! تو کوئی ایسی کوئی سورت نہیں پڑھی، جو {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو پیاری، بلیغ اور نتیجہ خیز ہو۔ یزید راوی کہتے ہیں: ابوعمران اس سورت کی تلاوت کبھی نہ چھوڑتے تھے اور ہمیشہ اس کو نمازِ مغرب میں پڑھا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8883]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 254، الدارمي: 3439، والطبراني في الكبير: 17/ 862، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17554»
وضاحت: فوائد: … سورۃ الفلق اور سورۂ ناس بہترین دم ہیں اور مخلوقات کے شرّ اور جادو اور نظر بد وغیرہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ ہیں، ان کے نزول سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختلف الفاظ کے ساتھ انسانوں اور جنوں کی نظر سے پناہ مانگتے تھے، لیکن جب یہ سورتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پڑھنے کو اپنا معمول بنا لیا۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي: 8/ 254
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8883 in Urdu