الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ الْاقْتَصَادِ فِي الْمَوْعِظَةِ
وعظ ونصیحت میںمیانہ روی اختیار کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 8931
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ قَوْمٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام میں کوئی رخصت دی، لیکن بعض لوگوں نے اس کو قبول کرنے سے گریز کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنے غصے ہو گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غصہ نظر آنے لگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس چیز سے اعراض کر رہے ہیں، جس میں مجھے (بھی) رخصت دی گئی ہے، اللہ کی قسم! لوگوں میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے والا اور سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا میں ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8931]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6101، 7301، ومسلم: 2356، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24683»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت رکھنے والے اور اس معرفت کے تقاضے پورے کرنے والے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام افعال و اعمال و اقوال سر آنکھوں پر۔ یہ خطرناک چیز ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رخصت دیں اور لوگ اس کے بارے میں تردّد میں پڑ جائیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6101
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8931 in Urdu