الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابٌ فِي غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ خَارِجَ الْمُغْتَسَلِ، وَحُكْمِ التَّنْشِيفِ بِالْمِنْدِيلِ
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 894
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَتْ: فَنَاوَلْتُهُ خِرْقَةً فَقَالَ هَٰكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ لَا أُرِيدُهَا، قَالَ سُلَيْمَانُ (الْأَعْمَشُ أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ) : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: هُوَ كَذَلِكَ وَلَمْ يُنْكِرْهُ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: لَا بَأْسَ بِالْمِنْدِيلِ، إِنَّمَا هِيَ عَادَةٌ
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک چیتھڑا پکڑایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ اشارہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نہیں چاہیے، سلیمان اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابراہیم کے لیے ذکر کی، انھوں نے کہا: بات اسی طرح ہی ہے، اور انھوں نے اس کا انکار نہیں کیا اور مزید کہا: کپڑا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 894]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27393»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطورِتولیہ کپڑا استعمال نہیں کیا، جبکہ ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
سیدنا عروہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ لَہُ خِرْقَۃٌ یَتَنَشَّفُ بِھَا بَعْدَ الْوُضُوْئِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، جس سے وضو کے بعد (اعضا) خشک کرتے تھے۔ (ترمذی:۱/۷۴، حاکم:۱/۱۵۴، بیھقی:۱/۱۸۵، صحیحہ: ۲۰۹۹) وضو یا غسل کے بعد اعضاء کو تولیے وغیرہ سے خشک کرنے یا نہ کرنے کا وضو اور غسل کے اجر کی کمی یا زیادتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
سیدنا عروہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ لَہُ خِرْقَۃٌ یَتَنَشَّفُ بِھَا بَعْدَ الْوُضُوْئِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، جس سے وضو کے بعد (اعضا) خشک کرتے تھے۔ (ترمذی:۱/۷۴، حاکم:۱/۱۵۴، بیھقی:۱/۱۸۵، صحیحہ: ۲۰۹۹) وضو یا غسل کے بعد اعضاء کو تولیے وغیرہ سے خشک کرنے یا نہ کرنے کا وضو اور غسل کے اجر کی کمی یا زیادتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27393
Al-Fath al-Rabbani Hadith 894 in Urdu