الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ فِي التَّرْغِيْبِ فِي أَعْمَالِ الْبِرِّ وَالطَّاعَةِ مُطْلَقًا
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 8954
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا قَالَ فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ دَعْهُمْ يَعْمَلُوا
۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ردیف تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ جب بندے یہ حق ادا کر دیں تو ان کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس چیز کی لوگوں کو خوشخبری نہ دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رہنے دو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8954]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 4296، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22356»
وضاحت: فوائد: … اس میں امت ِ مسلمہ کے شرف کا بیان بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کو اپنی رحمت کا مستحق قرار دیا ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ انتہائی قابل غور ہے، یعنی زیادہ اجرو ثواب والے اعمال کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بندہ مزید عمل کرنا ترک کر دے، دیکھیں اس قسم کی احادیث کے اولین مخاطَب صحابۂ کرام تھے، لیکن انھوں نے ان کی وجہ سے کسی عمل کو ترک کرنا گوارا نہ کیا،نیز اگلی حدیث پر غور کریں۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا ہماری عملی زندگی سے تعلق یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ انتہائی قابل غور ہے، یعنی زیادہ اجرو ثواب والے اعمال کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بندہ مزید عمل کرنا ترک کر دے، دیکھیں اس قسم کی احادیث کے اولین مخاطَب صحابۂ کرام تھے، لیکن انھوں نے ان کی وجہ سے کسی عمل کو ترک کرنا گوارا نہ کیا،نیز اگلی حدیث پر غور کریں۔
اس حدیث ِ مبارکہ کا ہماری عملی زندگی سے تعلق یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8954 in Urdu