الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب فى الترغيب فى خصال مجتمعة من أفضل أعمال البر والنهي عن ضدها
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8960
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ وَجِهَادٌ لَا غُلُولَ فِيهِ وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ قِيلَ فَأَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ قَالَ طُولُ الْقُنُوتِ قِيلَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ جَهْدُ الْمُقِلِّ قِيلَ فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ قِيلَ فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ قِيلَ فَأَيُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ قَالَ مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو، ایسا جہاد کہ جس میں کوئی خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔ کسی نے کہا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لمبا قیام کرنا۔ کسی نے کہا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کم مایہ آدمی کی طاقت کے بقدر۔ کسی نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ کے حرام کردہ امور کو ترک کر دیا‘ اس کی یہ ہجرت (یعنی حرام کاموں کو چھوڑ دینا) افضل ہے۔ کسی نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مال وجان سمیت مشرکین سے جہاد کرنا۔ پھر یہ سوال کیا گیا کہ کون سا قتل (یعنی شہادت) بلند مرتبہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8960]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه مختصرا ومطولا ابوداود: 1325، 1449، والنسائي: 5/ 58، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15476»
وضاحت: فوائد: … حج مبرور وہ ہے جس میں حاجی اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے محفوظ و سالم رہتا ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده قوي
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8960 in Urdu