الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب فى الترغيب فى خصال مجتمعة من أفضل أعمال البر والنهي عن ضدها
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8966
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الْبَرِيَّةِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّمَا كَانَتْ هَيْعَةٌ اسْتَوَى عَلَيْهِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قَالُوا بَلَى قَالَ الرَّجُلُ فِي ثُلَّةٍ مِنْ غَنَمِهِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ الْبَرِيَّةِ قَالُوا بَلَى قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین مخلوق کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو، جب کبھی کہیں سے کوئی خوفناک آواز آتی ہے تو وہ اس پر سوار ہو کر تیار ہو جاتا ہے۔ اب کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں بھی نہ بتلا دوں، جس کا مرتبہ اس سے کچھ کم ہے۔ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی بکریوں کے ایک ریوڑ میں ہو اور نماز ادا کرتا ہو اور زکوۃ دیتا ہو۔ اب کیا میں تمہیں بد ترین آدمی کے بارے میں نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جاتا ہے، لیکن پھر بھی وہ نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8966]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مسلم: 1889دون قوله: الا اخبركم بشر البرية۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9142 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9131»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرنا، اس کی مفصل حقیقت جاننے کے لیے ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (۳۵۵۲)
الحكم على الحديث: حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8966 in Urdu