الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. الفصل الأول فى استحباب الوضوء للجنب إذا أراد النوم
جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے¤سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: Q900]
حدیث نمبر: 900
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَصْنَعُ أَحَدُنَا إِذَا هُوَ أَجْنَبُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ لِيَنَمْ) )
سیدنا عمر بن خطابؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے یہ سوال کیا کہ جب ہم میں سے کسی آدمی کو جنابت لاحق ہو جائے اور پھر وہ سونا بھی چاہے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز والا وضو کر لے، پھر سوجائے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 900]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 287، 289، ومسلم: 306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 94 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 94»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد (۱۶۵) میں اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں: سیدنا عمر ؓنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی آدمی جنبی ہو تو کیا وہ سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَتَوَضَّأُ وَیَنَامُ اِنْ شَائَ۔)) … اگر وہ چاہتا ہے تو وضو کر کے سو جائے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ جنابت والے آدمی کے لیے سونے سے پہلے وضو کر لینا مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 287
Al-Fath al-Rabbani Hadith 900 in Urdu