🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرُ الْوَالِدَيْنِ وَحُقُوقِهَا وَالتَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَمَرَتْهُ أُمُّهُ أَوْ أَبُوهُ أَوْ كِلَاهُمَا قَالَ شُعْبَةُ يَقُولُ ذَلِكَ أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّرٍ فَأَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَى يُطِيلُهَا فَصَلَّى مَا بَيْنَ الظَّهْرِ وَالْعَصْرِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَوْفِ بِنَذْرِكَ وَبَرَّ وَالِدَيْكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوَالِدُ أَوْسَطُ بَابِ الْجَنَّةِ فَحَافِظْ عَلَى الْوَالِدِ أَوِ اتْرُكْ
۔ ابو عبد الرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کو اس کی ماں نے یا باپ نے یا دونوں نے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، لیکن اس نے طلاق دینے پر سو غلاموں کو آزاد کرنے کی نذر مان لی، پھر وہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ طوالت کے ساتھ نماز چاشت ادا رہے تھے، انھوں نے ظہر اور عصر کے درمیان بھی نماز پڑھی، اس آدمی نے ان سے سوال کیا، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: اپنی نذر پوری کر اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تیری مرضی ہے کہ تو اپنے والد کی حفاظت کر یا ضائع کر دے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9005]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 2089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22060»
وضاحت: فوائد: … سوغلاموں کی آزادی کی نذر ماننے سے اس کا مقصود والدین کو ڈرانا تھا تاکہ وہ طلاق کا حکم دینے سے باز آ جائیں، لیکن معاملہ اس کے الٹ ثابت ہوا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9005 in Urdu