الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْل ذلِكَ وبركته
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: Q9084]
حدیث نمبر: 9084
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ قَالَ أَنْ تُطْعِمَ الطَّعَامَ وَتَقْرَأَ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کھانا کھلانا اور سلام کہنا ہر شخص کو، تیری اس سے معرفت ہو یا نہ ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9084]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري12، 28، 6236، ومسلم: 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6581»
وضاحت: فوائد: … مہمان کے اکرام کی بنیاد ذاتی معرفت نہیں ہونی چاہیے، جیسا کہ اکثر لوگوں کا رویہ بن چکا ہے، آج کل دو چیزوں کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے، ایک ذاتی معرفت اور ایک سرمایہ داری، جس مہمان میں یہ دو صفات نہ ہوں، اس کے ساتھ تو دعا سلام لینا گوارہ نہیں کیا جاتا، یہ فرق اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري12
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9084 in Urdu