الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي إِكْرَامِ الضَّيْفِ وَفَضْل ذلِكَ وبركته
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
حدیث نمبر: 9088
عَنْ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يَقْرِنِي وَلَمْ يُكْرِمْنِي ثُمَّ نَزَلَ بِي أَقْرِيهِ أَوْ أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ قَالَ بَلِ اقْرِهِ
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک آدمی کے پاس گیا، اس نے نہ میری ضیافت کی اور نہ میری عزت کی، پھر اگر وہی آدمی میرے پاس آ جائے تو کیا میں اس کی ضیافت کروں یا اس کو اس کے کیے کا بدلہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تو اس کی ضیافت کر۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9088]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الطيالسي: 1303، 1304، والطبراني في الكبير: 19/ 608، والحاكم: 1/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15891 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15986»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9088 in Urdu