الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُدَّةِ الضَّيَافَةِ وَمَا لِلضَّيْفِ مِنَ الْحَقِّ وَمَا عَلَيْهِ
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
حدیث نمبر: 9095
عَنِ الْعَبَّاسِ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يَقُولُ تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا فَأَصَابَنِي سَبْعَ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهَا شَدَّتْ مَضَاغِي
۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں سات دنوں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا رہا، میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں کھجوریں تقسیم کیں، میرے حصے میں سات کھجوریں آئیں، ان میں ایک ردّ ی کھجور بھی تھی، جبکہ وہ مجھے سب سے زیادہ پسند تھی، اس کو بڑے زور سے چبانا پڑا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9095]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 4157، والترمذي: 2474، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9373 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9362»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9095 in Urdu