الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي تَأْخِيرِ الْغُسْلِ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ
رات کے پچھلے حصے تک غسلِ جنابت کو مؤخر کرنا
حدیث نمبر: 910
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَغْتَسِلُ
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنابت لاحق ہو جاتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو جاتے تھے اور پانی کو چھوتے تک نہیں تھے، پھر جب بیدار ہوتے تو غسل کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 910]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 739 دون قوله: ولا يمس ماء، واھل الحديث علي ان ھذه اللفظة خطأ من ابي اسحق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24662»
وضاحت: فوائد: … اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کو چھوتے تک نہیں تھے۔ ان الفاظ کے دو معانی مراد لیے جا سکتے ہیں، ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کے لیے پانی کو نہیں چھوتے تھے، اس معنی سے وضو کی نفی نہیں ہوتی، دوسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے پہلے وضو کرتے تھے نہ غسل، اس معنی سے معلوم ہو گا کہ وضو کو ترک کرنا بھی جائز ہے، اور حدیث نمبر (۹۰۰)کے فوائد میں یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ سونے سے پہلے جنابت والے آدمی کے لیے وضو کرنا مستحب ہے، ضروری نہیں ہے۔ بہرحال محدثین کا یہ خیال بھی ہے کہ وَلَا یَمَسُّ مَائً کے الفاظ ابو اسحق کی غلطی کا نتیجہ ہیں، اصل روایت ان الفاظ کے بغیر ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 739 دون قوله: ولا يمس ماء
Al-Fath al-Rabbani Hadith 910 in Urdu