الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي النَّصِيحَةِ لِلْمُسْلِمِينَ بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي إِعَانَةِ الْمُسْلِمِ وَتَفْرِيحِ كَرْبِهِ وَقَضَاءِ حَاجَيْهِ وَمِثْرٍ عَوْرَتِهِ
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9106
عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ دَعُوا النَّاسَ فَلْيُصِبْ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا اسْتَنْصَحَ رَجُلٌ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْ لَهُ
۔ ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ بعض بعض سے نفع حاصل کر سکے، ہاں جب کوئی کسی سے نصیحت طلب کرے تو وہ نصیحت کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9106]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 3/ 15، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 28282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18471»
وضاحت: فوائد: … لوگوں کو چھوڑ دینے سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والوں اور خریدنے والوں کو چھوڑ دو، وہ آپس میں سودا کر لیں گے، تم بیچ میں آ کر قیمتوں کے مشورے نہ دو اور دلّالی نہ کرو، ہاں جب کوئی آدمی مشورہ طلب کرے تو ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر اس کی خیرخواہی کر دی جائے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9106 in Urdu