الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ التَّرْغيب فِي الدَّعْوَةِ إِلَى الْهُدَى وَأَعْمَالِ الْخَيْرِ وَالدَّلَالَةِ عَلَيْهَا وَالشَّفَاعَةِ وَإِصْلَاحِ ذَاتِ البين
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9140
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ قَالُوا بَلَى قَالَ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو نماز، روزے اور صدقے کی بہ نسبت زیادہ فضیلت والے درجے کی خبر نہ دوں؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرابت کی اصلاح کرنا اور رشتوں میں فساد ڈالنا تو (دین کو) مونڈ دینے والی چیز ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9140]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4919، والترمذي: 2509، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28058»
وضاحت: فوائد: … اہل اسلام بھائی بھائی ہیں،انسانی لغزشوں کی وجہ سے کبھی کبھییہ رشتۂ اخوت متأثر ہو جاتا ہے، جس کی بنا پر پورے مسلم معاشرے میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو جا تا ہے، اس لیے صلح کروانے کو عظیم صدقہ شمار کیا گیا ہے، جو بعض مسلمان دوسرے مسلمانوں کے حق میں کرتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا} (سورۂ حجرات: ۹) … اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے مابین صلح کر وا دیا کرو۔ عہدِ نبوی میں عمرو بن عوف کی اولاد کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا تھا، ان کے مابین صلح صفائی کروانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود کچھ صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لے گئے تھے۔ (بخاری، مسلم) معلوم ہوا کہ جب بعض مسلمان جھگڑ پڑیں تو دوسرے لوگ اس بات کے ذمہ دار ہوں گے کہ ان کے مابین صلح کروا دیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9140 in Urdu