الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الرَّحْمَةِ بِخَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى وَثَوَاب فَاعِلِهَا وَوَعِيدِ مَنْ لَمْ يَرْحَمْ
اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی ترغیب اور ایسا کرنے والے کے ثواب¤اور مخلوق پر رحم نہ کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 9216
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِنْبَرِهِ يَقُولُ ( (ارْحَمُوا تُرْحَمُوا وَاغْفِرُوا يَغْفِرِ اللَّهُ لَكُمْ وَيْلٌ لِأَقْمَاعِ الْقَوْلِ وَيْلٌ لِلْمُصِرِّينَ الَّذِينَ يُصِرُّونَ عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر فرمایا: رحم کرو، تم پر رحم کیا جائے گا، بخشو، اللہ تعالیٰ تم کو بخش دے گا، ان سنی کر دینے والوں کے لیے ہلاکت ہے، اصرار کرنے والوں کے لیے بھی ہلاکت ہے جو جاننے بوجھنے کے باجود اپنے برے افعال پر ڈٹے رہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9216]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البيھقي في الشعب: 7236، والبخاري في الأدب المفرد: 380، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7041»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کی ذات رحم کرنے اور بخشنے سے بدرجۂ اتم و اکمل متصف ہے،لیکن جو انسان، اللہ تعالیٰ کی مخلوقات کے حق میں ان دو صفات سے متصف ہو کر رحمدلی اور معافی کا معاملہ نہیں کرتا، اس کا اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات سے بھی کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9216 in Urdu