🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب الترغيب فى شكر المنعم والمكافاة على المعروف
منعِم کا شکر ادا کرنے اور نیکی کا بدلہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9241
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوگوں کا شکر ادا نہیں کیا، اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9241]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4811، والترمذي: 1954، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7495»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ حقیقی محسِن ہے اور احسان کرنے والا آدمی مجازی محسِن ہوتا ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے کے لیے اس کو سبب بناتا ہے، اس لیے محسِنِ حقیقی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے اور محسِنِ مجازی کا بھی۔
تمام انعامات کا سرچشمہ اور منعمِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہے، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہر وقت اور ہر نعمت پر اس کا شکر ادا کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ کھانے پینے کے بعد کی دعاؤں، سوتے اور بیدار ہوتے وقت کی دعاؤں، سواری پر سوار ہونے کی دعاؤں وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کی گئی ہے۔
بسا اوقات انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہِ راست نعمت ملتی ہے، لیکن بعض اوقات ربّ جلیل اپنے بندوں پر انعام کرنے کے لیے اپنے بندوں کو ہی استعمال کرتے ہیں، جیسے وہ لوگ جو ہماری روزی کا سبب بنتے ہیں، ہمیں صدقہ و خیرات دیتے ہیں، ہمیں تحائف و ہدایا عطا کرتے ہیں، ہم کو دعوت دیتے ہیں، وغیرہ۔ ایسی صورت میں لوگوں کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9241 in Urdu