الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب فى حكم دخول الحمام
حمام میں داخل ہونے کا حکم
حدیث نمبر: 929
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ: خَرَجْتُ مِنَ الْحَمَّامِ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (مِنْ أَيْنَ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ؟) ) قَالَتْ: مِنَ الْحَمَّامِ، فَقَالَ: ( (وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! مَا مِنْ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ أَحَدٍ مِنْ أُمَّهَاتِهَا إِلَّا وَهِيَ هَاتِكَةٌ كُلَّ سِتْرٍ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ) )
۔ (دوسری سند) سیدہ ام درداء ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جونہی میں حمام سے نکلی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام درداء! کہاں سے؟ میں نے کہا: جی حمام سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو عورت اپنی ماؤں کے علاوہ کسی اور کے گھر میں کپڑے اتارتی ہے، وہ ہر پردے کو پھاڑ دیتی ہے، جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الغسل من الجنابة وموجباته/حدیث: 929]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27578»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں عورتوں کی حرمت کے تحفظ کی خاطر ایک سنہری اصول یہ بیان کیا گیا ہے کہ عورت کو اپنے گھر کے علاوہ کسی غیر کے گھر میں کپڑے نہیں اتارنے چاہئیں، یہ شرم و حیا کی پیکر عورتوں کی خوبی ہے، جو خواتین اس اصول کی پابند نہیں ہیں، ان میں غیر سنجیدگی اور آوارگی پائی جاتی ہے اور ہمارے معاشرے میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ دھوکہ دے کر یا چوری چھپے ایسی خواتین کی فلمیں بنوا لی گئیں اور پھر ان سے وہ کچھ کروایا گیا، جو کروانے والوں کے جی میں آیا۔
الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27578
Al-Fath al-Rabbani Hadith 929 in Urdu