🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الْغِنَی الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ
نیک آدمی کے لیے مناسب غِنٰی کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9343
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) مِثْلُهُ وَزَادَ وَاللَّهِ مَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ التَّكَاثُرَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ (وَفِي لَفْظٍ) وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْخَطَأَ وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زیادہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے تمہارے بارے میں فقیری کا ڈر نہیں ہے، مجھے تو کثرتِ مال کا ڈر ہے۔ ایک روایت میں ہے: مجھے تمہارے بارے میں بلا ارادہ غلطی کرنے کا ڈر نہیں ہے، جان بوجھ کر گناہ کرنے کا ڈر ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الفقر والغنى/حدیث: 9343]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، وانظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10971»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ فقر کی مضرّت، غِنٰی کی مضرّت سے زیادہ ہے، کیونکہ فقیری سے صرف دنیا کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ غِنٰی کا ضرر دین کو نقصان پہنچاتا ہے، اس گزارش کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ اکثر و بیشتر مالدار لوگوں کا مال ان کو اللہ تعالیٰ اور موت سے غافل کر دیتا ہے، وہ دنیا کی رنگینیوں میں پڑ جاتے ہیں اور فقراء و مساکین پر شفقت کرنے سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔ جبکہ فقیری بھی اس آدمی کے لیے مفید ہے جو صبر کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر شریعت کے احکام کا لحاظ رکھنے والا ہو۔
اگر دنیوی مال و دولت کے ساتھ دینی تعلیمات کی روشنی میں تقوی و پرہیزگاری کی نعمت مل جائے تو پھر سرمایہ امورِ خیر کا سبب بن جائے گا، درج بالا تمام احادیث ِ مبارکہ کا مفہوم درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے:
سیدنا ابو کبشہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنّمَا الدُّنْیَا لِاَرْبَعَۃِ نَفَرٍ، عَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَالًا وَعِلْمًا فھُوَ یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ، یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ وَیَعْلَمُ لِلّّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِیْہِ حَقَّہُ، قَالَ: فَھٰذَا بِاَفْضَلِ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عِلْمًا وَلَمْ یَرْزُقْہُ مَالاً۔))
قَالَ: فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ عَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ((فَاَجْرُھُمَا سَوَائٌ۔)) قَالَ: ((وَعَبْدٌ رَزَقَہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَمْ یَرْزُقْہُ عِلْمًا فَھُوَ یَخْبِطُ فِیْ مالِہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ لَا یَتَّقِیْ فِیْہِ رَبَّہُ عَزَّوَجَلَّ، وَلَا یَصِلُ فِیْہِ رَحِمَہُ، وَلَا یَعْلَمُ فِیْہِ لِلّٰہِ حَقَّہُ، فَھٰذَا اَخْبَثُ الْمَنَازِلِ۔)) قَالَ: ((وَعْبْدٌ لَمْ یَرْزُقْہُ اللّٰہُ مَالاً وَلَا عِلْمًا فَھُوَ یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ لِیْ مَالٌ لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ، قَالَ: ھِیَ نِیَّتُہُ۔)) … دنیا صرف چار افراد کے لیے ہے، (۱) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال بھی عطا کیا اور علم بھی اور وہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہنچانتا ہے، یہ آدمی سب سے افضل منزلت والا ہے، (۲) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا، مال نہیں دیا، پس وہ نیک خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں آدمی کی طرح نیک کام کرتا، ان دونوں کا اجر برابر ہے، (۳) وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا، علم نہیں دیا، پس وہ اپنے مال کو بے تکا اور بغیر سوچے سمجھے خرچ کرتا ہے اور اس کے بارے میں نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، نہ صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ اس سے متعلقہ اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے، یہ آدمی سب سے گھٹیا مرتبے والا ہے، اور (۴) وہ آدمی جس کو نہ اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور نہ علم، لیکن اس گھٹیا آدمی کے کردار کو سامنے رکھ کر کہتا ہے: اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں فلاں کی طرح کے کام کرتا، یہ اس کی نیت ہے۔ (ترمذی: ۲۳۲۵، مسند احمد:۱۸۰۳۲)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9343 in Urdu