الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب
باب
حدیث نمبر: 9350
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ تَعَالَى وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ وَأُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثَةٌ (وَفِي رِوَايَةٍ ثَلَاثُونَ) مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلِعِيَالِي طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا مَا يُوَارِي إِبْطُ بِلَالٍ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ کی وجہ سے تکلیف دی گئی اور اتنی تکلیف کسی کو نہیں دی گئی اور مجھے اللہ تعالیٰ کے بہ سبب ڈرایا گیا اور اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسے تین دن بھی آئے کہ پورا دن اور رات گزر جاتے تھے، جبکہ میرے اور میرے اہل و عیال کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی تھی، جس کو جاندار کھا سکے، ما سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپا کر لاتے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9350]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ماجه: 151، والترمذي: 2472، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12212 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12236»
وضاحت: فوائد: … خاص طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف دینے کے لیے نشانہ بنایا جاتا تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو بتوں کی پوجاپاٹ سے منع کرتے اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے، کوئی قتل کی دھمکی دیتا، کوئی سوشل بائیکاٹ کرتا، کوئی کسی سزا کی وعید سناتا۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9350 in Urdu