یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب
باب
حدیث نمبر: 9356
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةً كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَجَعَلَ يُلَاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ مَهْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ ذَهَبَ بِالشِّرْكِ (وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً) ذَهَبَ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَجَاءَنَا بِالْإِسْلَامِ فَوَلَّى الرَّجُلُ فَأَصَابَ وَجْهَهُ الْحَائِطُ فَشَجَّهُ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ لَكَ خَيْرًا إِذَا أَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَفَّى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عَيْرٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، ایک ایسی خاتون کو ملا، جو جاہلیت میں زانیہ رہ چکی تھی، وہ اس سے اٹھ کھیلیاں کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ اس کو لگا دیا، اس پر اس عورت نے کہا: رک جا، بیشک اللہ تعالیٰ شرک اور جاہلیت کو لے گیا ہے اور ہمارے پاس اسلام کو لے آیا ہے، پس وہ آدمی چلا گیا اور واپسی پر اس کا چہرہ دیوار پر لگا اور زخمی ہو گیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا واقعہ بتلا دیا، جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایسا بندہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کے گناہ کی سزا دینے میں جلدی کرتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ شرّ کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے اس کے گناہ کی سزا روک لیتا ہے، یہاں تک کہ روزِ قیامت اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، گویا کہ وہ عِیر پہاڑ ہو گا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9356]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن حبان: 2911، والحاكم: 1/ 349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16929»
وضاحت: فوائد: … عِیْر سے دو چیزیں مراد لی جا سکتی ہیں: (۱) مدینہ منورہ کا عیر پہاڑ، یا (۲) وحشی گدھا، مفہوم یہ ہے کہ ایسے فرد کے گناہوں کو جمع کیا جاتا ہے، تاکہ اس کی ہلاکت کا سبب بن سکیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9356 in Urdu