الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمَرْضِ مُطْلَقًا فِي أَى عُضْوِ كَانَ مِنَ الْإِنْسَانِ وَفَضْلِهِ
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو¤اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9366
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ فَسَمِعْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا قَالَ ( (أَجَلْ إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ) ) قُلْتُ إِنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ قَالَ ( (نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهِ خَطَايَاهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرُ وَرَقَهَا) )
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخار تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک آپ کو بہت سخت بخار ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جی، بیشک مجھے اتنا بخار ہوتا ہے، جتنا تم میں سے دو افراد کو ہوتا ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ کے لیے اجر بھی دو گنا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میرے جان ہے! روئے زمین پر رہنے والے جس مسلمان کو جو تکلیف لاحق ہوتی ہے، وہ بیماری ہو یا کوئی اور تکلیف، تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو یوں مٹاتا ہے، جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9366]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5647، 5648، ومسلم: 2571، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3618»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5647
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9366 in Urdu