الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9410
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ قُلْتُ مَاتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَنْتَ الَّذِي قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْوَلَدَيْنِ مَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ لَأَنْ يَكُونَ قَالَهُ لَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَيْهِ حِمْصُ وَفِلَسْطِينُ
۔ سیدنا ابو ثعلبہ اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دو بچے اسلام میں فوت ہو چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دو بچے اسلام میں فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو بھی جنت میں داخل کر دے گا۔ بعد میں جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو انھوں نے مجھ سے کہا: تم وہ آدمی ہو، جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کے بارے میں خوشخبری سنائی تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات میرے لیے فرماتے تو یہ بات مجھے ان چیزوں سے زیادہ پسند ہوتی، جن پر حمص اور فلسطین کو بند کیا گیا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 9410]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عمر بن نبھان، أخرجه الطبراني: 22/ 601، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27220 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27762»
وضاحت: فوائد: … حمص اور فلسطین اور ان کے خزانوں کامالک بننا مراد ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عمر بن نبھان
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9410 in Urdu