الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب حقوق الصحبة والمؤاخاة فى الله تعالى
اللہ تعالیٰ کے لیے صحبت اور بھائی چارے کے حقوق کا بیان
حدیث نمبر: 9463
عَنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي أَزْفَلَةٍ مِنَ النَّاسِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا (قَالَ حَمَّادٌ وَقَالَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ) وَمَا تَوَادَّ رَجُلَانِ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَتَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِحَدَثٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا وَالْمُحْدَثُ شَرٌّ وَالْمُحْدَثُ شَرٌّ وَالْمُحْدَثُ شَرٌّ
۔ بنوسلیط کے ایک صحابی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ وہ اس کو بے یار و مدد گار چھوڑتا ہے، تقوییہاں ہے، حماد راوی نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ کیا، جب دو آدمی اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں اور پھر ان میں تفریق پیدا ہو جاتی ہے تواس کا سبب گناہ ہوتا ہے، جس کا ان دو میں ایک ارتکاب کرتا ہے اور گناہ شرّ ہے، گناہ شرّ ہے، گناہ شرّ ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9463]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20965»
وضاحت: فوائد: … گناہ ایسی نحوست ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اختیار کی گئی صحبت بھی متأثر ہو جاتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9463 in Urdu