الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي عِبَادَةِ الْمَرِيضِ مُطْلَقًا وَثَوَابِ ذلك
مطلق طور پر مریض کی عیادت کرنے کی ترغیب اور اس عمل کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 9474
عَنْ هَارُونَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (أَيُّمَا رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا فَإِنَّمَا يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ) ) قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلصَّحِيحِ الَّذِي يَعُودُ الْمَرِيضَ فَالْمَرِيضُ مَا لَهُ قَالَ ( (تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبُهُ) )
۔ ابو داود کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا: اے ابو حمزہ! گھر تو دور ہے، لیکن ہمیں یہ بات بڑی اچھی لگتی ہے کہ ہم تمہاری عیادت کریں، انھوں نے اپنا سر اٹھایا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی کسی مریض کی تیمار داری کرنے کے لیے جاتاہے، وہ رحمت میں داخل ہوتاہے، اور جب اس مریض کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ثواب تو عیادت کرنے والے صحت مند کے لیے ہے، مریض کے لیے کیا اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل المحبة والصحبة/حدیث: 9474]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 8846، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12813»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9474 in Urdu