🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ آدَابِ تَخْتَصُّ بِالْقَادِمِ عَلَى الْمَجْلِسِ
مجلس میں آنے والے کے مخصوص آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9496
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا إِذَا جِئْنَا إِلَيْهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آتے تھے تو جہاں مجلس ختم ہو رہی ہوتی تھی، وہیں بیٹھ جاتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9496]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4825، والترمذي: 2725، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21145»
وضاحت: فوائد: … بعد میں آنے والے وڈیروںیا خیر و بھلائی کی رغبت رکھنے والے صوفی مزاج لوگوں کییہ عادت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کی بابرکت مجالس میں ایسا نہیں ہوتا تھا، وہاں جس کو جہاں جگہ ملتی تھی، وہ وہیں بیٹھ جاتا تھا۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں عہد ِ نبوی کے ایک ادب ِ مجلس کا ذکر کیا گیا ہے۔ عصر حاضر میں اہل علم سمیت اکثر لوگ اس کو ترک کر چکے ہیں۔ وہ ادب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی کسی مجلس میں پہنچے تو جہاں مجلس ختم ہو رہی ہے، وہیں بیٹھ جائے، اگرچہ اسے دروازے کی دہلیز پر بیٹھنا پڑے، وہ اس چیز کا انتظار نہ کرے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوںتاکہ وہ آگے جا سکے، جیسا کہ متکبر سرداروں اور بڑائی خور لوگوں کا وطیرہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کرنے سے صراحت کے ساتھ منع کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لایُقِیْمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَقْعَدِہٖ ثُمَّ یَجْلِسُ فِیْہِ، وَلٰکِنْ تَفَسَّحُوْا وَتَوَسَّعُوْا)) … کوئی آدمی دوسرے آدمی کو اس کی مجلس سے کھڑا مت کرے اور پھروہاں خود بیٹھ جائے، (البتہ تم کو چاہئے کہ) کھلے ہو جاؤ اور وسعت پیدا کرو۔ (مسلم) اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: جب کوئی آدمی سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے لیے اپنی مجلس سے کھڑا ہوتا تو وہ وہاں نہیں بیٹھتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا کہ مجلس میں بیٹھا ہوا آدمی کسی کی خاطر کھڑا ہو۔ دیکھیں صحیحہ: ۲۲۸۔(صحیحہ: ۳۳۰)

الحكم على الحديث:
حديث حسن


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9496 in Urdu