الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ وجوبهِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ وَالتَّشْدِيدِ فِيهِ
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے¤اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9529
عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَدَّمَ الْخُطْبَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ قَالَ تُرِكَ مَا هُنَاكَ يَا أَبَا فُلَانٍ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
۔ سیدنا طارق بن شہاب کہتے ہیں: پہلا شخص، جس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا، وہ مروان ہے، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے، اس نے کہا: اے ابو فلاں! وہ والے امور چھوڑ دیئے گئے ہیں، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس آدمی نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں جو آدمی برائی کو دیکھے، اس کو اپنے ہاتھ سے تبدیل کرے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر اتنی طاقت بھی نہ ہو تو دل سے برا سمجھے، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9529]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 49، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11460 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11480»
وضاحت: فوائد: … برائی کو دل سے برا سمجھنا ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے، گویا برائی کو پسند کرنا یا اس میں پڑ جانا ایمان کے منافی چیز ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 49
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9529 in Urdu