الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ وجوبهِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ وَالتَّشْدِيدِ فِيهِ
نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے واجب ہونے، ایسا کرنے پر ابھارنے¤اور اس معاملے میں سختی کا بیان
حدیث نمبر: 9537
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا وَأَوْثَقَنِي سَبْعًا وَأَشْهَدَ عَلَيَّ تِسْعًا أَنِّي لَا أَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ (الْحَدِيثَ)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ دفعہ مجھ سے بیعت کی، سات دفعہ عہدو پیمان کیااور نو چیزوں کو مجھ پر گواہ بنایا کہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔ [الفتح الربانی/مسائل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر/حدیث: 9537]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو اليمان عامر بن عبد الله الھوزني في عداد المجھولين، أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21841»
وضاحت: فوائد: … مضبوط اور راسخ عقیدے کا تقاضا تو یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کر کے کسی ملامت والے کی ملامت کا پاس و لحاظ نہ رکھے۔
یہاںیہ تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فریضے کو سر انجام دینے کے لیے حکمت اور مصلحت انتہائی ضروری ہے، نیکی کا حکم دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی پر بے جا سختی کی جائے، کسی کی توہین کی جائے، کسی کو برسرِ عام ڈانٹ دیا جائے، اپنی بے عزتی کے مترادف انداز اپنایا جائیے،ایسا انداز اپنایا جائے کہ اگلا آدمی انتقامی کاروائی پر اتر آئے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔} … اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ (سورۂ فصلت: ۳۴)
یہاںیہ تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فریضے کو سر انجام دینے کے لیے حکمت اور مصلحت انتہائی ضروری ہے، نیکی کا حکم دینے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی پر بے جا سختی کی جائے، کسی کی توہین کی جائے، کسی کو برسرِ عام ڈانٹ دیا جائے، اپنی بے عزتی کے مترادف انداز اپنایا جائیے،ایسا انداز اپنایا جائے کہ اگلا آدمی انتقامی کاروائی پر اتر آئے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہُ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔} … اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ (سورۂ فصلت: ۳۴)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9537 in Urdu