🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بابُ مَا جَاءَ فِي الثلاثيات
ثلاثیات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9580
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَفْضَلُ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلَا تَعْجِزْ فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ صَنَعَ وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ فَإِنَّ اللَّوَّ يَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضعیف مؤمن کی بہ نسبت قوی مؤمن زیادہ بہتر، زیادہ فضیلت والا اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہے، بہرحال ہر ایک میں خیر و بھلائی پائی جاتی ہے، نفع بخش چیزوں کی حرص رکھ اور عاجز نہ آ جا، اگر کوئی معاملہ تجھ پر غالب آ جائے تو یہ کہا کر کہ اللہ تعالیٰ کا یہی اندازہ تھا اور جو وہ چاہتا ہے، کر دیتا ہے، اور لَوْ سے بچ، کیونکہ لَوْ شیطان کا کام کھولتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9580]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2664، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8791 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8777»
وضاحت: فوائد: … قوی مؤمن اسلام کے تمام ارکان و احکام کو کما حقہ پورا کر سکتا ہے، جیسے جہاد، حج، کمائی وغیرہ، جبکہ کمزور مومن کو رخصتوں پر عمل کرنا پڑتا ہے،بہرحال دونوں میں خیر ہے، کیونکہ دونوں اپنی صلاحیتوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔ صحت و قوت مسلمان کے لیے تب مفید ہے، جب وہ اس سے استفادہ کر رہا ہو۔
دین و دنیا کے لیے جو چیز مفید ہو اور اس کا حصول بندے کے لیے ممکن ہو تو اس کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنی چاہیے اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑ کر گھر بیٹھ نہیں جانا چاہیے۔ یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ وہ کچھ ہو گا جو اللہ کو منظور ہو گا، لیکن اسی پاک ذات نے مفید چیزوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کا حکم دیا ہے۔
لَوْ (اگر) کااستعمال اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر عدم رضامندی کی نشاندہی کرتا ہے، اگر اسباب استعمال کرنے کے بعد نقصان ہو جائے تو اس پر صبر کرنا چاہیے اور اس سے متعلقہ صبر کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2664


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9580 in Urdu