🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ خِصَالٍ مِنْ كِبْرِيَاتِ الْمَعَاصِي مُجْتَمِعَةٍ وَوَعِيدِ فَاعِلِهَا
مطلق طور پر نافرمانیوں سے ڈرانے اور ان کا ارتکاب کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کی غیرت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9672
عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ أَيِّنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ
۔ علی بن خالد کہتے ہیں کہ ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ، خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے گزرے، اس نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہوئے انتہائی نرم کلمے کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے ہر کوئی جنت میں داخل ہو گا، ما سوائے اس کے جس نے اللہ تعالیٰ پر اس طرح بغاوت کی، جس طرح اونٹ اپنے مالک پر بدک جاتاہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9672]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الاوسط: 3173، والحاكم: 1/55، والحاكم: 4/ 247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22579»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے فرائض و واجبات کو ترک کرنا اور محرمات وممنوعات کا ارتکاب کرنابغاوت اور سرکشی کہلاتاہے۔ جو اونٹ جس مالک کا کھاتا ہے اگر اسی کے سامنے بدکنا شروع کر دے تو اس کا کیا علاج کیا جاتا ہے، ہر کوئی جانتا ہے۔ جو بچہ اپنے غیرت مند اور خیرخواہ باپ کے منصوبوں پر کراس لگاتا ہے، اسے کون سا انجام بھگتنا پڑتا ہے، ہر ایک کے لیے واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا معاملہ بھییہی ہے کہ جو بھی اس کے قوانین سے پہلو تہی اختیار کرے گا، اسے اس جرم کی سزا بھگتنا پڑے گی، لیکن جب سزا کا وقت آئے گا تو اس وقت کا پچھتاوا، اس وقت کاافسوس اور اس وقت کی حسرت کچھ کام نہ آئے گی۔
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… فانما المؤمن کالجمل الانف، حیثما قید انقاد۔)) (ابن ماجہ) … مومن کی مثال تو نکیل شدہ اونٹ کی طرح ہے، کہ جب اس کی نکیلیا لگام کو پکڑ کر اس کے آگے آگے چلا جاتا ہے تو وہ مطیع ہو کر پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9672 in Urdu