🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ قَطْعِ صِلَةِ الرَّحِيمِ
قطع رحمی سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9693
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَنْبَانِ مُعَجَّلَانِ لَا يُؤَخَّرَانِ الْبَغْيُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو گناہوں کی سزا جلدی دی جاتی ہے، اس میں تاخیر نہیں کی جاتی: بغاوت (وظلم) اور قطع رحمی۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9693]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20651»
وضاحت: فوائد: … ہمارے معاشرے میں انسانیت دو طبقوں میں منقسم ہے: (۱) ابتدائے حیات سے الجھنوں میں الجھی ہوئی اور (۲) ابتدائے زندگی سے عیش و عشرت میں پلی ہوئی۔
پہلی قسم کو راحت و استراحت کا، جبکہ دوسری قسم کو کلفت و مشقت کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا ہے۔
ایک دوسرے لحاظ سے بھی دو قسمیں ہیں: (۱)مجبور و مقہور و مظلوم اور (۲) ظالم و جابر و بد معاش
پہلے طبقے کو آزادی و خود مختاری کا اور دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور بندوں کی غلامی کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔
مذکورہ بالا حدیث کی حقانیت ان چار طبقوں کے لیے غیر واضح ہے، یہ اور اس قسم کی دوسری احادیث اس بندے کے لیے سبق آموز ہو سکتی ہیں، جس کو نیکی کی وجہ سے ذہنی تسکین نصیب ہوتی ہو اور برائی کی وجہ سے قلق و اضطراب ہوتا ہے اور وہ اپنے نقصانات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے والا اور ان کے اسباب پر غور کرنے والا ہو، جبکہ وہ نیکیوں اور برائیوں کی تمام صورتوں کو سمجھنے والا ہو۔
صلہ رحمی اور تمام رشتہ داروں سے تعلق قائم رکھنا بہت بڑی نیکی اور عظیم خصلت ہے، لیکن اِس وصف سے عاری ہونے کا اور پھر اس کے انجام بد کا احساس صرف اُس فرد کو ہو گا جو شریعت کی روشنی میں کچھ زمانے تک صلہ رحمی کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔ یہی معاملہ ظلم اور بغاوت کا ہے کہ لِکُلِّ عُرُوْجٍ زَوَالٌ کے تحت ظالموں کو اپنی زندگی میں ہی بے بسی، لاچارگی، ذہنی اذیت اور حقارت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ابو جہل و فرعون جیسے جابروں کی مثالیں کافی ہیں۔ ہر ملک کے ظالم حکمران کی آخری زندگی پر غور کریں، شاید وہ اس بات کے متمنّی ہوں کہ کاش ان کے نصیبے میں مسندِ حکومت سرے سے نہ آتا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20651


Al-Fath al-Rabbani Hadith 9693 in Urdu