الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنَ الْغَدْرِ وَنَقْضِ الْعَنْهِدِ وَعَدْمِ الْوَفَاءِ بِهِ
دھوکے، عہد توڑنے اور اس کو پورا نہ کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9756
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَقُولُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا غَدْرَةَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ إِمَامِ عَامَّةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لیے جھنڈا گاڑھا جائے گا، بڑے امام کے ساتھ کیے گئے دھوکے سے بڑھ کر کوئی دھوکہ نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9756]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5378 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5378»
وضاحت: فوائد: … بہت بڑی رسوائی ہے کہ حشر کے میدان میں اللہ کی مخلوق کے سامنے دبر کے ساتھ ایک جھنڈا گڑھا ہوا ہو، جو اس کی خیانت، دھوکے اور عہد شکنی پر دلالت کرے۔ مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا شعور ہونا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9756 in Urdu