الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْتَرْهِيْبِ مِنَ الظُّلْمِ وَالْبَاطِلِ والاعانة عَلَيْهما
ظلم، باطل اور ان دونوں پر مدد کرنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9772
عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا فَسِيلَةُ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ أَبِي وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ قَالَ ( (لَا وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يَنْصُرَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ) )
۔ عباد بن کثیر شامی، جو کہ فلسطین کا ایک باشندہ تھا، اپنے خاندان کی فسیلہ نامی ایک خاتون سے روایت کرتا ہے، اس نے اپنے باپ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدمی کا اپنی قوم سے محبت کرنا عصبیت میں سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عصبیت تو یہ ہے کہ بندہ ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9772]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 5119، وابن ماجه: 3949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17114»
وضاحت: فوائد: … اسلام نے حکم دیا ہے کہ رشتہ داروں سے محبت کی جائے اور ان کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور عصبیت سے بچے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9772 in Urdu