الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الشُّحُ وَالْبُخْلِ
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9836
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ فَجَعَلَتْ تَقْضِي حَوَائِجَهُ قَالَ فَفَضَلَ مَعَهَا سَبْعَةٌ قَالَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِهَا فُلُوسًا قَالَ قُلْتُ لَهُ لَوِ ادَّخَرْتَهُ لِلْحَاجَةِ تَنُوبُكَ أَوْ لِلضَّيْفِ يَنْزِلُ بِكَ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوكِيَ عَلَيْهِ فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يُفْرِغَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ عبد اللہ بن صامت سے مروی ہے کہ وہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ان کا کوئی مال نکل آیا، ان کے ساتھ ان کی ایک لونڈی بھی تھی، اس نے ان کی ضروریات پوری کرنا شروع کیں، جب اس مال سے سات بچ گئے تو انھوں نے اپنی لونڈی سے کہا کہ وہ ان کے عوض قدیم سکے خرید لے، میں (عبد اللہ بن صامت) نے کہا: اگر تم ان کو پیش آنے والی ضرورت یا اپنے پاس آنے والے مہمان کے لیے ذخیرہ کر لو تو بہتر ہو گا۔ انھوں نے کہا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ جس سونے اور چاندی کو بند کر کے رکھ دیا جائے تو وہ اس مالک کے لیے انگارے ہوں گے، یہاں تک کہ وہ ان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9836]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البزارفي مسنده: 3926، والطبراني: 1634، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21712»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9836 in Urdu