الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنَ الشُّحُ وَالْبُخْلِ
لالچ اور بخل سے خوف دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9839
عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ وَكَانَ مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ قَالَ أَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا فَأَخَذْتُ سُنْبُلًا فَفَرَكْتُهُ وَأَكَلْتُ مِنْهُ وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ( (مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ سَاغِبًا أَوْ جَائِعًا) ) فَرَدَّ عَلَيَّ الثَّوْبَ وَأَمَرَ لِي بِنِصْفِ وَسْقٍ أَوْ وَسْقٍ
۔ سیدنا عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ، جو بنو غبر میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم قحط سالی میں مبتلا ہو گئے، میں مدینہ میں آیا اور اس کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں داخل ہوا، ایک سٹّے کو ملا اور اس سے دانے نکالے۔ کچھ دانے کھا لیے اور کچھ کپڑے میں اٹھا لیے، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا۔ میں (شکایت لے کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا (اور ساری بات بتائی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (باغ کے اس مالک) سے فرمایا: وہ جاہل تھا تو نے اسے تعلیم نہیں دی اور وہ بھوکا تھا تو نے اسے کھلایا نہیں۔ تو اس نے میرا کپڑا مجھے لوٹا دیا اور مجھے ایک یا نصف وسق کھانے کا بھی دیا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9839]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2621، وابن ماجه: 2298، والنسائي: 8/ 240، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17662»
وضاحت: فوائد: … شرعی قانون کے مطابق اس آدمی کا باغ سے دانے اٹھا کر لے جانا غلطی تھی، اس کے احکام مقرر ہیں، چونکہ یہ آدمی جاہل تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے معذور قرار دیا اور مالک کو معمولی سی سرزنش کر دی۔ صاع ایک پیمانے کا نام ہے، جو دو کلو سو گرام کے برابر ہوتا ہے اور ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9839 in Urdu