الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمِزَاحِ وَالتَّرْهِيبِ مِنَ الْكَذِبِ فيه
مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9910
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ مِنَ الْمُزَاحَةِ وَيَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا) )
۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس وقت تک کامل ایمان تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک مذاق میں جھوٹ بولنے کو اور جھگڑنے کو ترک نہ کر دے، اگرچہ وہ اس جھگڑے میں سچا ہی کیوں نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9910]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مكحول لم يسمع من ابي ھريرة، ومنصورُ بن آذِين مجھول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8615»
وضاحت: مذاق کا بیان، نیزاس میں جھوٹ بولنے سے ترہیب کا بیان ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَنَا زَعِیْمُ بَیْتٍ فِی رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَإِنْ کَانَ مُحِقًّا وَبَیْتٍ فِی وَسَطِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْکَذِبَ وَإِنْ کَانَ مَازِحاً وَبَیْتٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ لِمَنْ حَسُنَ خُلُقُہُ۔)) … میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں، جس نے حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دیا (اور اپنے حق سے دستبردار ہو گیا) اور اس شخص کے لیے جنت کے درمیان میںایک گھر کا ضامن ہوں جس نے مزاح کے طور پر بھی جھوٹ نہیں بولا اور اس شخص کے لیے جنت کے بلند ترین حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں جس کا اخلاق اچھا ہوا۔ (ابوداود: ۴۸۰۰)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9910 in Urdu