الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيْبِ مِنْ تَشْقِيقِ الْكَلَامِ وَالتَّشَدُّقِ فِيهِ وَمَا جَاءَ فِي الْبَيَانِ فِي الْقَوْلِ
باچھین ہلا کر تکلّف و تصنّع سے گفتگو کرنے سے ترہیب اور واضح باتوں کا بیان
حدیث نمبر: 9930
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ خَطِيبَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَا فَتَكَلَّمَا ثُمَّ قَعَدَا وَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِهِمْ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِكُمْ فَإِنَّمَا تَشْقِيقُ الْكَلَامِ مِنَ الشَّيْطَانِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں مشرق کی طرف سے دو خطیب آدمی آئے، انھوں نے کھڑے ہو کر خطاب کیا اور پھر بیٹھ گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطیب سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گفتگو کرنے کے بعد وہ بھی بیٹھ گئے، پس لوگوں کو ان کی گفتگو سے بڑا تعجب ہوا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! (طبعی انداز میں اور بغیر کسی تکلف اور تصنّع کے) اپنا مدّعا بیان کر دیا کرو، پس بیشک کلام کی شقیں نکالنا شیطان کی طرف سے ہے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب آفات اللسان/حدیث: 9930]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه مختصرا البخاري: 5767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5687»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9930 in Urdu