سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
174. بَابُ جَامِعِ الطَّلَاقِ
طلاق کے جامع مسائل
ترقیم دار السلفیہ: 2167 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3344
نا نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلا اسْتَكْرَهَ امْرَأَةً حَتَّى أَفْضَاهَا وَافْتَضَّهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" فَجَلَدَهُ الْحَدَّ، وَضَمَّنَهُ ثُلُثَ دِيَتِهَا" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کو زبردستی نقصان پہنچانے پر مرد پر حد اور ایک تہائی دیت لازم کی۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3344]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لذاته، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2167، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13663، 17670، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28475»
وضاحت: فائدہ: تأیید و شواہد: یہی مضمون فقہاء احناف، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ میں تفصیل سے مذکور ہے ابن قدامہ (المغنی)، کاسانی (بدائع الصنائع)، الماوردی نے اس پر اجماع کے قریب بات کی ہے کہ: "من أكره امرأة على الزنا فعليه الحد، وله عليها العُقر" بعض روایات میں عورت کو بھی عقر دیا گیا ہے اگرچہ دخول سے پہلے تکلیف دی گئی ہو ✅ خلاصہ و نتیجہ: یہ اثر سنداً حسن ہے اور اس سے درج ذیل اصول مستفاد ہوتے ہیں: زبردستی زنا پر حد نافذ ہوگی اگر دخول ثابت ہو جسمانی نقصان (افتضاض) پر تاوان (عُقر) واجب ہوگا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حد اور عُقر کو جمع کیا — یہ عدلِ فاروقی کی واضح مثال ہے قضایا النساء کے باب میں تابعین و صحابہ کا عمل فقہی استدلال کی مضبوط بنیاد ہے۔
الحكم على الحديث:
إسناده حسن لذاته
Sunan Saeed bin Mansur Hadith 3344 in Urdu