صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
51. ذكر الحث على تعليم كتاب الله وإن لم يتعلم الإنسان بالتمام-
- قرآنِ کریم کو سکھانے پر ترغیب کا ذکر اگرچہ انسان نے اسے مکمل نہ سیکھا ہو۔
حدیث نمبر: 115
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ إِلَى بُطْحَانَ أَوِ الْعَقِيقِ، فَيَأْتِيَ كُلَّ يَوْمٍ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَاوَيْنِ زَهْرَاوَيْنِ يَأْخُذُهُمَا فِي غَيْرِ إِثْمٍ، وَلا قَطِيعَةِ رَحِمٍ؟"، قَالُوا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يُحِبُّ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلاثٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلاثٍ، وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ مِنْ عِدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا الْخَبَرُ أُضْمِرَ فِيهِ كَلِمَةٌ وَهِيَ: لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا، يُرِيدُ بِقَوْلِهِ: فَيَتَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلاثٍ لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا، لأَنَّ فَضْلَ تَعَلُّمِ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَكْبَرُ مِنْ فَضْلِ نَاقَتَيْنِ، وَثَلاثٍ وَعِدَادِهِنَّ مِنَ الإِبِلِ لَوْ تَصَدَّقَ بِهَا، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يُشَبِّهَ مَنْ تَعَلَّمَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فِي الأَجْرِ بِمَنْ نَالَ بَعْضَ حُطَامِ الدُّنْيَا، فَصَحَّ بِمَا وَصَفْتُ صِحَّةُ مَا ذَكَرْتُ.
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور ہم اس وقت صفہ میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ بطحان یا عقیق جائے اور روزانہ وہاں سے دو ایسی اونٹنیاں لے آیا کرے جن کی کوہان بلند ہو اور ان کی رنگت چمکدار ہو، اور وہ کسی گناہ اور کسی قطع رحمی کے بغیر انہیں حاصل کر لے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک شخص اس بات کو پسند کرے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی شخص مسجد جائے اور اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرے، یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے زیادہ بہتر ہے، اور تین (آیات کا علم حاصل کرنا) تین اونٹنیوں حاصل کرنے سے زیادہ بہتر ہے، اور چار (آیات کا علم حاصل کرنا) ان کی تعداد کے جتنے اونٹوں کو حاصل کرنے سے بہتر ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت میں ایک کلمہ پوشیدہ (یعنی محذوف) ہے اور وہ یہ ہے: ”اگر وہ اسے صدقہ کر دے۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مراد یہ ہو گی: آدمی کا اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنا اس کے لیے دو یا تین اونٹنیوں کو صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: اللہ کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنا دو یا تین اونٹنیوں یا ان جتنے اونٹوں کو صدقہ کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے کیونکہ یہ بات ناممکن ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کی دو آیات کا علم حاصل کرنے کے اجر کو دنیاوی ساز و سامان کے حصول سے تشبیہ دیں، اس لیے میں نے جو وضاحت کی ہے وہ درست ہو گی جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 115]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 803، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 115، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1456، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17680، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30697، والطبراني فى(الكبير) برقم: 799، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3186»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1309): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، وحبان هو ابن موسى بن سوار السلمي المروزي، وعبد الله هو ابن المبارك.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 115 in Urdu
علي بن رباح اللخمي ← عقبة بن عامر الجهني