صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
111. باب نواقض الوضوء - ذكر الإباحة للمرء ترك الوضوء مما مسته النار من لحوم الغنم
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ بکری کے گوشت سے جو آگ سے متاثر ہو، وضو ترک کرے
حدیث نمبر: 1150
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَلِيلُ ، بِنَسَا، قَالا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّهُ" رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ عَرْقٍ يَأْكُلُ، فَأَتَى الْمُؤَذِّنُ بِالصَّلاةِ، فَأَلْقَى الْعَرْقَ وَالسِّكِّينَ مِنْ يَدِهِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ" . قَالَ إِسْحَاقُ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَذْكُرِ الضَّمْرِيَّ وَقَالَ:" يَحْتَزُّ مِنْ عَرْقٍ فَأَتَاهُ الإِذْنُ بِالصَّلاةِ". وَقَالَ:" مِنْ يَدِهِ وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے گوشت کھایا، پھر مؤذن نماز کے لیے بلانے آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہڈی اور چھری کو ایک طرف رکھ دیا جو آپ کے دستِ اقدس میں موجود تھی، اور آپ نے ازسرنو وضو نہیں کیا۔ اسحاق نامی راوی نے اپنی سند کے ساتھ فضل بن عمرو کے حوالے سے، ان کے والد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ انہوں نے سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا نام ذکر نہیں کیا اور انہوں نے یہ الفاظ ذکر کیے ہیں: ”آپ ہڈی کا گوشت نوچ کر کھا رہے تھے پھر نماز کے لیے بلاوا آ گیا۔“ اس راوی نے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں: ”آپ نے اپنے ہاتھ میں سے (چھری) کو رکھ دیا، اور نماز ادا کی اور ازسرنو وضو نہیں کیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1150]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 208، 675، 2923، 5408، 5422، 5462، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 355، وابن الجارود فى "المنتقى"، 25، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1141، 1150، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 6734، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1836، والدارمي فى (مسنده) برقم: 754، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 490، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17521» «رقم طبعة با وزير 1147»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى (1138). تنبيه!! رقم (1138) = (1141) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
الفضل بن عمرو، روى عنه اثنان، وأورده المؤلف في الثقات، وذكره البخاري وابن أبي حاتم، ولم يذكرا فيه جرحاً، فالحديث صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1150 in Urdu
الفضل بن عمرو الضمري ← عمرو بن أمية الضمري