صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
216. باب المياه - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الجنب إذا وقع في البئر وهو ينوي الاغتسال ينجس ماء البئر
پانی کے احکام کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اگر جنب کنویں میں گر جائے اور وہ غسل کی نیت رکھتا ہو تو کنویں کا پانی نجس ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 1259
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي، فَانْسَلَلْتُ مِنْهُ، فَانْطَلَقْتُ، فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ، فَقَالَ:" أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ؟"، قُلْتُ: لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ لا يَنْجُسُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی اور میں جنابت کی حالت میں تھا، میں آپ کے ساتھ چلتا رہا اور آپ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، پھر میں آپ کے پاس سے چلا گیا، میں واپس آیا اور میں نے غسل کیا، پھر میں واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! تم کہاں چلے گئے تھے؟“ میں نے عرض کی: جب آپ سے میری ملاقات ہوئی تھی تو میں جنابت کی حالت میں تھا، مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں ایسی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھا رہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک مومن نجس نہیں ہوتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 283، 285، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 371، وابن الجارود فى "المنتقى"، 106، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1259، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 269، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 259، وأبو داود فى (سننه) برقم: 231، والترمذي فى (جامعه) برقم: 121، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 534، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 923، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7331» «رقم طبعة با وزير 1256»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (226): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، رجاله رجال الشيخين خلا عبد الوارث العتكي، وهو صدوق وأبو رافع: اسمه نفيع بن رافع الصائغ المدني.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1259 in Urdu
نفيع بن رافع المدني ← أبو هريرة الدوسي