پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
237. باب جلود الميتة - ذكر إباحة الانتفاع بجلود الميتة بنفع مطلق
مردار کے چمڑے کے احکام کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مردار کی کھالوں سے مطلق نفع اٹھانا جائز ہے
حدیث نمبر: 1280
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَاتَتْ شَاةٌ لَزَوْجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ: " أَلا انْتَفَعْتُمْ بِمَسْكِهَا"؟ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَسْكُ مَيْتَةٍ؟!، قَالَ: فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الآيَةِ إِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَأْكُلُونَهُ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَبَعَثَتْ إِلَيْهَا، فَسُلِخَتْ، فَجَعَلَتْ مِنْ مَسْكِهَا قِرْبَةً، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُهَا بَعْدَ سَنَةٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کی بکری مر گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے ہاں تشریف لائے انہوں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی کھال سے نفع حاصل کیوں نہیں کرتے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا مردار کی کھال سے راوی بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ”تم یہ فرما دو جو چیز میری طرف کی گئی ہے اس میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جو کھانے والے کے لئے حرام ہو ماسوائے اس کے کہ وہ مردار ہو۔“ یہ آیت آخر تک تلاوت کی (پھر آپ نے ارشاد فرمایا:) لوگ اسے کھا نہیں رہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: پھر اس خاتون نے اس کی کھال کو بھجوایا اس کی دباغت کی گئی اور اس کی کھال سے مشکیزہ بنا لیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے ایک سال کے بعد بھی وہ مشکیزہ دیکھا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1280]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1492، 2221، 5531، 5532، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 363، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1829، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1280، 1282، 1284، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4246، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4120، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1727، والدارقطني فى (سننه) برقم: 98، 99، 100،وأحمد فى (مسنده) برقم: 2030، والحميدي فى (مسنده) برقم: 498» «رقم طبعة با وزير 1277»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «غاية المرام» (29).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات إلا أن رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← عكرمة مولى ابن عباس | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص سلام بن سليم الحنفي ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة متقن | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← سلام بن سليم الحنفي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن عبد الله البستي، أبو الحسن محمد بن عبد الله البستي ← قتيبة بن سعيد الثقفي | صدوق حسن الحديث |
Sahih Ibn Hibban Hadith 1280 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي