صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
84. ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرناه
ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 1533
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَشَاءِ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلاةَ فَقَدْ رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً وَهُوَ يَقُولُ: " لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، لأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوا هَذِهِ الصَّلاةَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (حجرہ مبارک کے قریب) آئے اور بولے: نماز (کا وقت ہو گیا ہے)، خواتین اور بچے سو چکے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے اہل ایمان کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ یہ نماز (یعنی اس وقت میں یہ نماز) ادا کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1533]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 571، 7239، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 642، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 342، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1098، 1532، 1533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1951، 3535، والحميدي فى (مسنده) برقم: 499» «رقم طبعة با وزير 1531»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1533 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي